کیا تمہارا کام مجھے تنگ کرنا نہیں ہے؟ - Teasing
کیا تمہارا کام مجھے تنگ کرنا نہیں ہے؟ ہمیشہ کا عذاب اور یہ سب؟
وہ ادمی ہنس پڑا اور جھک کر بولا میں شیطان نہیں ہوں حمزہ اس نے مسکرایا اور پھر سے ہاتھ بڑھایا چلو چلتے ہیں حمزہ نے ایک پل سوچا پھر سر ہلا کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اٹھ گیا اس نے زمین سے اپنی اور گمی ساون اٹھائی . جب وہ دونوں ہنا کے دروازے پر پہنچے حمزہ نے مڑ کر عائشہ کو دیکھا جو ابھی بھی ہنا کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی.
وہ وہ ابھی بھی وہاں ہے حمزہ نے ادمی کو بتایا.
زیادہ دیر نہیں ادمی نے بغیر پلٹ کر جواب دیا.
وہ باہر چلے گئے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ نے لاشوں کو ریک سے نکال سٹریچر پر رکھا تھا ۔حمزہ کا جسم ایک سٹرچر پر تھا اور عائشہ کا اس کے پاس دوسرے سٹیچر پر. ترتیل میڈکس دونوں پر محنت کر رہے تھے ان کے سینے دباتے ہوئے اور عائشہ پر ڈیفی بریلیٹر کا استعمال کر رہے تھے حمزہ اور وہ ادمی ایک طرف کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے.
حمزہ نے اپنی اور گمی ساون ادمی کے سامنے اٹھائی کیا میں؟ اس نے پوچھا.

یہ اسے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا ادمی نے چتایا.
حمزہ نے سر ہلا دیا اور ریک کی طرف چلا گیا،دھوئیں میں گھلٹا ہوا ،آخری شعلوں سے گزرتا، بھاگتے ہوئے میڈکس اور فائرمین کے درمیان سے گزرتا ہوا،اور عائشہ کے جسم تک پہنچ گیا. اس نے ساون کو اس کے کوٹ کی جیب میں رکھ دیا پیچھے ہٹ کر اسے دیکھا پھر پلٹا اور واپس ادمی کے پاس چلا ایا جیسے ہی اس نے واپس موقع لیا ڈیفیبریٹر کا جھٹکا عائشہ کو زندگی میں واپس لے ایا اس نے ایک گھڑی سانس لی میڈیکس نے فورا اکسیجن مارکس اسے لگایا عائشہ نے ادھر ادھر دیکھا جب تک اس کی نگاہ اپنے مرنے والے شوہر حمزہ پر نہیں پڑی میٹرکس نے اسے ایمبولنس میں رکھا اس کا ہاتھ اب بھی اپنے مردہ شوہر کی طرف بڑھ رہا تھا.
حمزہ اور ادمی نے دیکھا جیسے ایمبولنس کے دروازہ بند ہوا پھر پلٹ گئے دونوں صادق پر چلتے رہے دھیرے دھیرے غائب ہوتے ہوئے۔
پہلی دفعہ سنا کہ کسی نے کہا کہ سمندر دیکھنا ان کا پسندیدہ یاد ہے ۔"بے نامی ادمی نے انکار کر دیا"۔
وہ اس کے ساتھ تھا یہ فرق ہے ہر یاد اس بات پر ہوتی ہے کہ تم نے کسی کے ساتھ گزاری ہے ایک کس صرف ایک کس ہوتا ہے حمزہ نے جواب دیا۔
علی؟ادمی نے پوچھا اور حمزہ نے سر ہلا دیا ادمی ہنس پڑا اور غائب ہونے سے پہلے بولا تمہیں جاننا مزے کا ہوگا حمزہ۔
وہ ادمی ہنس پڑا اور جھک کر بولا میں شیطان نہیں ہوں حمزہ اس نے مسکرایا اور پھر سے ہاتھ بڑھایا چلو چلتے ہیں حمزہ نے ایک پل سوچا پھر سر ہلا کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اٹھ گیا اس نے زمین سے اپنی اور گمی ساون اٹھائی . جب وہ دونوں ہنا کے دروازے پر پہنچے حمزہ نے مڑ کر عائشہ کو دیکھا جو ابھی بھی ہنا کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی.
وہ وہ ابھی بھی وہاں ہے حمزہ نے ادمی کو بتایا.
زیادہ دیر نہیں ادمی نے بغیر پلٹ کر جواب دیا.
وہ باہر چلے گئے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ نے لاشوں کو ریک سے نکال سٹریچر پر رکھا تھا ۔حمزہ کا جسم ایک سٹرچر پر تھا اور عائشہ کا اس کے پاس دوسرے سٹیچر پر. ترتیل میڈکس دونوں پر محنت کر رہے تھے ان کے سینے دباتے ہوئے اور عائشہ پر ڈیفی بریلیٹر کا استعمال کر رہے تھے حمزہ اور وہ ادمی ایک طرف کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے.
حمزہ نے اپنی اور گمی ساون ادمی کے سامنے اٹھائی کیا میں؟ اس نے پوچھا.

یہ اسے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا ادمی نے چتایا.
حمزہ نے سر ہلا دیا اور ریک کی طرف چلا گیا،دھوئیں میں گھلٹا ہوا ،آخری شعلوں سے گزرتا، بھاگتے ہوئے میڈکس اور فائرمین کے درمیان سے گزرتا ہوا،اور عائشہ کے جسم تک پہنچ گیا. اس نے ساون کو اس کے کوٹ کی جیب میں رکھ دیا پیچھے ہٹ کر اسے دیکھا پھر پلٹا اور واپس ادمی کے پاس چلا ایا جیسے ہی اس نے واپس موقع لیا ڈیفیبریٹر کا جھٹکا عائشہ کو زندگی میں واپس لے ایا اس نے ایک گھڑی سانس لی میڈیکس نے فورا اکسیجن مارکس اسے لگایا عائشہ نے ادھر ادھر دیکھا جب تک اس کی نگاہ اپنے مرنے والے شوہر حمزہ پر نہیں پڑی میٹرکس نے اسے ایمبولنس میں رکھا اس کا ہاتھ اب بھی اپنے مردہ شوہر کی طرف بڑھ رہا تھا.
حمزہ اور ادمی نے دیکھا جیسے ایمبولنس کے دروازہ بند ہوا پھر پلٹ گئے دونوں صادق پر چلتے رہے دھیرے دھیرے غائب ہوتے ہوئے۔
پہلی دفعہ سنا کہ کسی نے کہا کہ سمندر دیکھنا ان کا پسندیدہ یاد ہے ۔"بے نامی ادمی نے انکار کر دیا"۔
وہ اس کے ساتھ تھا یہ فرق ہے ہر یاد اس بات پر ہوتی ہے کہ تم نے کسی کے ساتھ گزاری ہے ایک کس صرف ایک کس ہوتا ہے حمزہ نے جواب دیا۔
علی؟ادمی نے پوچھا اور حمزہ نے سر ہلا دیا ادمی ہنس پڑا اور غائب ہونے سے پہلے بولا تمہیں جاننا مزے کا ہوگا حمزہ۔
1年前