بھائی اور بھابی

میری بھابی اور بھائی
یہ سچی کہانی ہے ۔ میرے بھائی علی نواز جو ادھیڑ عمر 38 سال کا ہے اور میری بھابی 34 سال ۔
علی نواز کا قد 5،8 انچ اور جسمانی ساخت میں عام آدمیوں جیسی خاصیت ہے ۔ پیٹ باہر نکلا ہوا جسم پر جگہ جگہ چربی ۔ بھابی قدرے پستہ قد ہے ۔ جسم کی بناوٹ عام سی چہرے پر نقوش بھی کچھ خاص نہیں ۔ دبلی پتلی ۔ نارمل 34 سائز کے بوبز اور چوتر بھی پتلے سے ۔
یہ جمعے کی رات تھی ، نمرہ اپنے کمرے میں دنیا جہاں سے بے فکر اپنے جسم کے ساتھ کھیل رہی تھی ، نمرہ ایک 35 سال کی جوان خوبصورت عورت ہے قد پانچ فٹ نو انچ ، ابھری ہوئی 36 کی چھاتیاں ابھرے ہوئئے بڑے بڑے چوتر ۔ اس کا شوہر پانچ سال پہلے مر گیا تھا ۔ نہ کوئی اولاد تھی اور نہ ہی ماں باپ وہ اپنے اکلوتے بھائی علی نواز کے ساتھ اپنےماں باپ کےگھر میں ہی رہ رہی تھی ۔بھابھی زلیخا کافی ظالم ثابت ہوئی دن بھر کام کاج کرواتی اور دوسری شادی میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی تھی نمرہ اسی آگ میں سلگتی رہی ۔ جب بھی وہ بھابی کو شادی کا کہتی تو بھابی دھمکی دے کر خاموش کروا دیتی کہ گھر سے نکال دے گی ۔ لہذا نمرہ نے اسی میں عافیت جانی کہ گھر میں خاموشی سے رہا جائے۔ ۔
کمرے میں سناٹا تھا اور سسکیاں ابھری رہی تھی نمرہ اپنے کپڑے اتارے ننگا ہو کر بستر پر لیٹی ہوئی تھی موبائل فون پر پورن فلم چل رہی تھی نمرہ اپنی چھاتیوں کو ہاتھوں سے مسل رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنی پھدی پر ہاتھ پھیر رہی تھی
اس کھیل میں کافی مزا آ رہا تھا ۔ ہاتھ دوسرے بوبز پر اس کے نپل کو مسلنے لگی اور پھدی کو سہلا رہی تھی ۔ جسم آگ میں تپ رہا تھا اور عجیب سے جلن اور اور جوش طاری تھا ۔ اس کے بوبز کافی تن گئے تھے نیچے سے پھدی کا سوراخ بھی تنگ ٹائٹ ہوتا جا رہا تھا جیسے جیسے وہ اپنی گیلی پھدی پرانگلی مار رہی تھی ، پھدی کے دانے کو بار بار سہلا رہی تھی وہ فلم دیکھ رہ تھی جس میں مردڈوگی سٹائل میں اپنا لن عورت کی پھدی میں ہتھوڑے کی طرح چلا رہا تھا ۔نمرہ مست ہو کر اپنی پھدی میں انگلی تیزی سے چلا رہ تھی پوری انگلی پھدی میں جا رہی تھی اور عجیب سا نشہ طاری ہو رہا تھا نمرہ پر ۔ اچانک دروازہ کھلا اور سایہ نمودار ہوا ۔ نمرہ دیکھ کر اک دم شاکڈ ہوگئی ۔ سامنے اس کی بھابی کھڑی تھی جو غصے سے دیکھ رہی تھی ۔ وہ آگےبڑھی اور نمرہ پر تھپڑوں کی بارش کر دی حرام زادی گشتی رنڈی ، گالیاں دیتے ہوئے وہ مار رہی تھی ، یہ گل کھلا رہی ہے یہاں پر الگ کمرے مٰں رہ کر ، نمرہ چپ چاپ مار کھا رہی تھی ۔ گشتی کی بچی حرامزادی ، دیتی ہوں تجھے لوڑا
اس کی بھابی مسلسل گالیاں دیتے ہوئے اس کو مار رہی تھی ۔ اچانک بھابی نے اس کی پھدی پر ہاتھ لگایا اور نمرہ کی پھدی میں انگلیاں ڈال دی تین کی تین انگلیاں ڈال دی ۔گالیاں بکتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی ابھی تجھے سواد دیتی ہوں تیری پھدی بہت گرم ہے نہ ، ابھی لن کا مزا دیتی ہوں انگلیاں پھدی میں ڈال کر اس کی بھابی زور زور سے پھدی کو ہلانے لگی ، بھابی کی انگلی جی سپاٹ پر تھی زور زور سے ہلانے سے نمرہ کی پھدی مزید گرم ہوگئی بھابی غصے میں انگلیاں ڈال کر ہلا رہی تھی لیکن نمرہ کو مزا آنے لگا تھا اور شدید مزے کی سسکیاریاں برآمد ہونے لگی بھابی نے دو منٹ تک انگلی ڈال کر زور زور سے پھدی کو ہلایا اندر باہر انگلیاں ڈالی تو نمرہ تو جیسے چھوٹ گئی ایک فوارہ سا اس کی پھدی سے نکلا جو بھابی کے منہ پر جا لگا اور نمرہ کی ایک زور دار چیخ نمرہ کا جسم کانپنے لگا ، اس کو آرگزم ملا چکا تھا ۔ بھابی کو اس بات پر اور غصہ آگیا اس نے پھر سے یہ ہی عمل دوہرانا شروع کر دیا اب کی بار بھابی نے پاس پڑا ہوا گول بالوں والا برش اٹھا لیا جس کی پھچھلی سآئڈ گول مٹول ہوتی شکل لن جیسی ہوتی اس کو پھدی میں ڈال کر لن کی طرح دخول کرنا شروع کر دیا بھابی زور زور سے اندر داخل کر رہی تھی اور برش کا گول حصہ کبھی اندر جاتا باہر نکلتا پھدی کی دیواروں کو ٹچ کر کے تیزی سے گہرائی میں جا رہا تھا بھابی ساتھ ساتھ اس کے بوبز کر تھپڑ مار رہی تھی اور بوبز پر ہاتھ پھیر رہا تھی ،اس عمل میں بھابی کو بھی عجیب سے نشہ چڑھنے لگا ۔ کبھی برش کو پھدی میں رکھ کر ایسے ہلانے لگی جیسی پھدی کو وائیبریٹ کیا جاتا ہے جس سے نمرہ کی چیخیں سسکاریاں بلند ہونا شروع ہوجاتی ۔ یہ عمل چار منٹ تک جاری رہا جس دوران نمرہ اس برش سے اک دفعہ پھر فارغ ہوگئی اور نمرہ کی پھدی سے پانی کا فوارا برآمد ہوا جس سے بھابی گیلی ہوگی اور نمرا کا پورا بدن گیلا بستر پر بھی جگہ جگہ پانی گر گیا ، بھابی نے بالوں سے پکڑ کر نمرہ کو فرش پر گرا لیا اور اپنی شلوار اتار کر اپنی پھدی نمرہ کے چہرے پر رکھ دی نمرہ کو کہا کہ چاٹو پھدی کو نمرہ بیچاری ڈری ڈری لیٹ کر پھدی کو چاتنے لگی نمرہ کی سسکاریاں اور بھابی اوپر بیٹھی اپنی پھدی پر گیلی گیلی زبان اور اس کا ٹچ ہونا محسوس کر رہی تھی
بھابی نے اپنی قمیض اتار دی اور اپنے نچلے جسم کوہلاتے ہوئئے پھدی کو نمرے کے منہ کے اوپر رگڑنے لگی اسی دوران بھابی نے نمرہ کی پھدی پر جوش سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا بھابی کے ہاتھ پھیرنے سے نیچھے لیٹی نمرہ کی گرمی دوچند ہوگئی اس کو پھدی چاٹنے میں عجیب سے مزا آنے لگا پھدی کا ذائقہ نمکین سا تھا لیکن اس عمل نے عجیب سا نشہ ڈال دیا نمہرہ اور جوش سے بھابی کی پھدی پر زبان پھیرنے لگی پوری زبان پھدی کے اندر ڈال دی،اور پھدی کےاندر اورتیزی سے زبان لپکانے لگی ۔بھابی اوپر بیتھی نشے میں چور سسکاریاں نکالتے ہوئے نمرہ کی پھدی کو سہلا رہی تھی بھابی نے پھر سے نمرہ کی پھدی میں انگلی ڈال دی اور نمرہ اچھل پڑی لیکن پھر تیزی سے زبان نیچے چلانے لگ جاتی یہ عمل دس منٹ تک جاری رہا بھابی بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی پھدی نیچے تندور کی طرح گرم ہو چکی تھی جس میں اب لن نہ جاتا تو شاید بھابی کو سکون نہ آتا ۔ بھابی اٹھ کھڑی ہوئی اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی ، ۔ بھابی جا چکی تو میں عجیب سے نشے میں دوچار لیٹی اپنی پھدی کو پھر سے سہلانے لگی آج جو ہوا وہ بہت نیا تھا میرے لیے میں شرمندہ بھی تھی ڈر رہی تھی لیکن فی الحال مجھ پر جوش طار ی تھاسیکس کے نشے میں جسم کو سہلانا مجبوری بن گئی تھی ۔
زلیخا کمرے مں داخل ہوئی اور اپنے شوہر علی نواز جو کہ لیٹا ہوا تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا یہ رات کے 11 بجے کا وقت تھا ۔ ذلیخا اندر جا کر بیڈ پر بیٹھ کر اپنے شوہر کے لن پر ہاتھ پھیرنے لگی علی نواز کو عجیب نہیں لگا کیونکہ پہلے بھی زلیخا کو جب ضڑورت ہوتی تھی تو وہ ایسے ہی لن کو سہلانے لگ جاتی تھی زلیخا بالکل ننگی تھی زلیخا اپنے نرم نرم ہاتھ میں لن کو لے کر مٹھ مار رہی تھی تھوڑی ہی دیر میں علی نواز کالن کھڑا ہوگیا زلیخا نے لن کو زبان لگانا شروع کردی علی نواز کی خفیف سی افففففففففففففففففففف جیسی سسکاری نکلی ، زلیخا نے اس اثنا میں پورا لن اپنے منہ میں لے لیا اور آہستہ زبان لن کے گرد لپٹ کر سہلانے لگی ۔ وہ پورا منہ کھولے علی نواز کا 7 انچ کالن منہ میں لے ری تھی اور کوشش کرتی کہ وہ حلق تک جائے زلیخا کے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگے موٹے موٹے ہونٹ کسی پھدی کی طرح ہی لگ رہے تھے ۔ علی نواز بھی جوش میں آگیا اس نے زلیخا کو سر سےپکڑ کر لن کو پورا اندر منہ میں دھکیل دیا لن زلیخا کے حلق میں پھنس گیا پھر باہر نکالااور پھر منہ میں ڈال دیا علی نواز زلیخا کے منہ کو پھدی سمجھ کر چودنے کے سٹائل میں لن اندر ڈال رہا تھا ۔ پانچ منٹ تک یہ کھیل جاری رہا ۔ زلیخا اٹھی اور اپنے شوہر علی نواز کا لن ہاتھ میں پکڑ کر کھینچ کر اسے کمرے سے باہر نکال لائی علی نواز چپ چاپ باہر نکل آیا وہ ننگا تھا زلیخا کھنچتے ہوئے لن کو اگے چل رہی تھی اور علی نواز ننگا ہو کر پیچھے چل رہا تھا زلیخا نے نمرہ کے کمرے کو دروازے کو دھکا دیا اور علی نواز کو اندر لے آئی
علی نواز سامنے کا منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا سامنے اس کی بہن نمرہ ننگی پڑی اپنی پھدی سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی نمرہ بھی ہکا بکا رہ گئی بھابی کھڑی وہاں دونون کو دیکھ رہی تھی علی نواز یہ دیکھ کر غصے میں آگیا اور ،، یہ کیا ہو رہا ہے حرامزادی ،،،نمرہ سہم گئی ،،، گشی کی بچی یہ کیا کر رہی ہے ۔ علی نواز کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے سامنے اس کی بہن بڑے بڑے بوبز خوبصورت سفید بدن موٹی موٹی لمبی رانیں اور بالکل ننگی ہو کے ننگی لیٹی ہوئی تھی علی نواز نے ایسا خوبصورت بدن پہلے نہیں دیکھا تھا ۔ اس کی بیوی اتنی پرکشش نہ تھی اسے غصہ بھی آ رہا تھا لیکن اتنا سیکسی بدن دیکھ کر اس کی آواز بیٹھنے لگی ، تینوں لوگ ننگے ایک ساتھ کھڑے تھے نمرہ بیڈ پر بھابی بیڈ کے قریب اور علی نواز دروازے کے پاس علی نواز کا لن مرجھانے لگا اور وہ ابھی تک یہ طے نہ کر پایا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ اس دوران زلیخا نے علی نوز کے قریب آ کر منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور علی نواز کے لن کو پکڑ لیا نیچے سے وہ مرجھائے لن کو سہلانے لگی اور ہاتھ منہ پر رکھا ہوا تھا زلیخا ننگی کھڑی علی نواز کے لن کو اپنے نرم ہاتھ میں دبا کر ہاتھ آگے پیچھے کر رہی تھی علی نواز پر پھر سے مستی چھانے لگی پھر زلیخا علی نواز کے سامنےبیٹھ کر علی نواز کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی لن کو جب نرم نرم زبان اور نرم گیلے منہ سے نسبت ملی تو وہ پھر سے موٹا اور لمبا ہونے لگا علی نواز کو پھر سے جوش آنے لگا ۔ نمرہ سہمی سہمی خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی وہ بول نہیں سکتی تھی ، بھابی سے ڈرتی تھی اورعلی نواز بھی ڈرپوک واقع ہوا تھااور کچھ لن نیچے سے چوسا جا رہا تھا نہ اسے کوئی سوال سوجھ رہا تھا نہ کوئی جواب بس گرمی اور سیکس کا نشہ طاری تھا علی نواز آنکھیں بند کیئے کھڑا تھا اور نیچے اس کی بیوی زلیخا لن کو چوس رہی تھی یہ کھیل جاری تھا اور نمرہ نےجب دونوں کا یہ رویہ دیکھا اور سامنے ننگے کھڑے بھائی اور اپنی بھابی کو دیکھ رک وہ بھی گرم ہوئئے بغیر نہ رہ سکی اور سیکس کی قلت کی وجہ سے اب اسے اپنے بھائی کا لن پرکشش دکھائی دینے لگا وہ بھابی کو دیکھ رہی تھی جو اس کے بھائی کے لن کو پورا منہ میں لیتی اور نکالتی نمرہ کے لیے لن ایک نایاب چیز بن چکا تھا اور آج سامنے دیکھ کر وہ رہ نہ پائی ، سسکاریاں بھرتے ہوئئے وہ اپنے بوبز پر ہاتھ پھیر رہی تھی اس کا ڈر ختم ہو چکا تھا اب وہ یہ سب تماشہ دیکھ رہی تھی اور اپنی پھدی کو سہلا رہی تھی رات کے اس پہر آس پاس خاموشی اور وہ تینوں ایک کمرے میں عجیب ہی سما بندھا ہوا تھا زلیخا اٹھی اور علی نواز کا لن پکڑ کر کھنچتے ہوئے اسے بیڈ کے قریب لے گئی جہاں پر نمرہ لیٹی ہوئی تھی اور اس نے نمرہ کو بالوں سے پکڑ کرچہرے کو اس کے بھائی کے لن کے قریب لائی اور نمرہ جھجکتے ہوئے قریب آئی اور منہ کھول دیا زلیخا نے نمرہ کو بالوں سے پکڑ کر لن نمرہ کے منہ میں دھیکیل دیا ، علی نواز یہ سارا منظر حیرت سے چپ چاپ دیکھ رہا تھا وہ دبو قسم کا شوہر ثابت ہوا تھا جس کی اپنی بیوی کے سامنے ایک نہ چلتی تھی ۔ اور اس موقعے پر جب کہ وہ خاصا گرم ہو چکا تھا کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھا ۔ ، جیسے ہی لن نمرہ کے منہ میں گیا دونون بہن بھائیوں کی عجیب سی سسکیاری نکلی ، یہ سسکیاری نکلتے ہی علی نواز کے لن میں اور زیادہ تناو آگیا نمرہ کو بہت عرصے بعد لن ملا تھا اور وہ اس کے منہ میں تھا ، حالا نکہ وہ اس کے بھائی کا لن تھا لیکن وہ سب بھول گئی اور مزے سے لن کو منہ میں لے کر چوسنے لگی جیسے وہ جنموں کی پیاسی ہو ۔ اسے بالکل پرواہ نہ رہی کہ یہ اس کے بھائی کالن ہے وہ تو دیوانہ وار لن کو منہ میں لے کر بار بار چوس رہی تھی تھوک بہہ بہہ کر اس کے منہ کو بھگو رہا تھا لیکن وہ لگی ہوئی تھی ، آج پہلی بار اسے لن ملا تھا اور وہ سیکس کی لذت میں چور ہو کرلن کو چوستی جا رہی تھی ۔ اور اس کے بھائی کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا ، اپنی بہن کا جوش دیکھ کر اس پر مزید مستی چھاتی جا رہی تھی ۔ جبکہ آج اسے بھی لن چسوانے میں نیا نیا لگ رہا تھا کیونکہ اس کی بیوی تو نارمل انداز میں لن چوسا کرتی تھی لیکن اس کی بہن پیاسوں کی طرح پاگلوں کی طرح چوس رہی تھی ۔ علی نواز کے لن کو آج نیا ذائقہ ملا تھا جس بنا پر اس کالن مزید تن گیا تھا ۔ اور موٹا ہوتا جا رہا تھا ۔ اسی دوران بھابی یہ سارا کھیل دیکھ رہی تھی اس کے لیے بھی آج سیکس کا نیا موڑ تھا وہ بہن بھائی کو ایک ساتھ ننگا دیکھ رہی تھی اور سسکاریاں بھر رہی تھی۔ زلیخا اس بار نمرہ کے پیچھے جا کر نمرہ کو ڈوگی سٹائل میں بیٹھنے کو کہا نمرہ سامنے سے اپنے بھائی کے لن کو منہ میں ڈالے چوس رہی تھی اور زلیخا پیچھے سے نمرہ کے چوت کے سوراخ پر اپنی گرم گرم زبان سے اس کی چوت کے سوراخ کو سہلانے لگی جیسے ہی اس کی زبان نمرہ کے سوراخ پر لگی نمرہ تڑپ اٹھی اور اس کے بھائی کا لن اس کے منہ سے باہر نکل گیا اور ایک اففففففففففففففففف جیسی خفیف سی سسکاری برآمد ہوئی ، لیکن پھر سے اس نے لن کو منہ میں ڈال لیا اور چوسنے لگی اور بھابی پیچھے سے اپنا کام کرنے لگی وہ مسلسل نمرہ کے سوراخ کو زبان لگا رہی تھی ، بھابی کے ذہن میں آج شیطانی منصوبہ چل رہا تھا جس پر وہ پورا پورا عمل کر رہی تھی وہ نمرہ کو شدید گرم کردینا چاہتی تھی تاکہ وہ آج اپنے بھائی سے چدوا لے ۔ وہ ہی ہوا نمرہ کی چوت پر زلیخا کی زبان گول گول گھوم رہی تھی اور نمرہ سسکاریاں بھرتے ہوئےیہ سب سہہتے ہوئے عجیب سے نشے میں مست بھائی کا لن چوسے جا رہی تھی
نمرہ شدید گرم ہو چکی تھی اور بھابی تو بس یہ منظر دیکھ کر ہی گرم ہوئی بیٹھی تھی علی نواز کا حال بھی مختلف نہ تھا سیکس کے جوش میں سب کچھ بھولے وہ بہن کےمنہ میں لن ڈالے مزے لے رہا تھا ۔ نیچے سے نمرہ کی پھدی سوج کر کپاہ ہوگئی تھی اب اس کی پھدی میں وائبریشن ہونے لگی ، جیسے سگنل دیا جا رہا ہو کہ اب اس میں لن کی آمد ہونی چاہیے علی نواز بھی لن چسوا چسوا کر تنگ ہونے کو تھا کہ ،زلیخا اٹھی اس نے نمرہ کے منہ سے لن نکالا اور اس کا رخ دوسری طرف کر دیا ۔ چوتر علی نواز کی طرف کر دیئے علی نواز نیچھے کھڑا تھا اور نمرہ بیڈ پر بیٹھی تھی ۔ زلیخا کسی ماہر کی طرح کام کر رہی تھی جیسے وہ سنڈے اور بھینس کا بیج رکھوانے کی ماہر ہو اس نے اپنے شوہر کا لن پکڑا اور اس کی بہن کی پھدی کے سوراخ پر رکھا ۔ وہ دونوں اس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے ۔ لن سوراخ پر جب پڑا تھا علی نواز نے بغیر ہچکچائے اپنی بہن کے پھدے میں ایک دھکا مارا اور پورا کا پورا لن نمرہ کی پھدی میں نمرہ کی پھدی میں لن جب گیا تھا وہ آہہہہہہہہہہہہہہ بھر کر رہ گئی ، نمرہ کو تو یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا آج اس کے لیے جنت کا سما تھا اتنے عرصے بعد وہ ایک سخت لن کو اپنی پھدی میں محسوس کر رہہی تھی مزے سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگی جیسے جان نکلی جا رہی ہو ہلکا سا درد اور اس پر لن اندرا جاتا ۔ اور یہ بات بھی ذہن میں بھی آتی کہ یہ اس کے بھائی کا لن ہے تو نمرہ میں مزید جوش طاری ہوجاتا وہ مزے سے لن کے ساتھ ہلنے لگی تھی اس کا بھائی پیچھے سے دھکے مار رہا تھا لن گہرائی میں جاتا پھدی کی دیواروں کو چیرتا ہوا ۔ نمرہ کی گیلی پھدی مزید سکڑتی اور کھل جاتی علی نواز بھی اب جوش میں دھکے مار رہا تھا یہ پرواہ کیئے بغیر کہ یہ اس کی بہن کی پھدی ہے ۔ ۔یہ یقینی بات ہے سیکس کے لیے جسم اہم ہوتے ہیں رشے ناطے بھول جاتے ہیں ۔ جسموں کا رشتہ بس سیکس ہے ۔ رشتے ناطے دماغی اختراع ہوتے ہیں ۔ زلیخا یہ سب کھیل دیکھ کر ویسے ہی گرم ہو ری تھی اس نے اپنی پھدی کے نمرے کے منہ کے پاس لا کر اس کا منہ پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ لیا اور چسوانے لگی ،نمرہ خاموشی سے اور مزے سے کسی روبوٹ کی طرح اپنی بھابی کی پھدی چوسنے لگی اور اس کا بھائی پیچے سے اس کی پھدی کو چود رہا تھا ۔ چودتے ہوئے علی نواز کو جوش آگیا وہ اب نمرہ کے ابھرے ہوئے چوتر پر تھپڑ مارنے لگا تھا ۔ تھپڑ پڑتے ہی نمرہ کی سسکاری بلند ہونے لگی اور علی نواز اور تیزی سے لن کو پھدی میں چلانے لگا
نمرہ کی پھدی میں لن جب جاتا تو وہ آہیں بھرنے لگی ، علی نواز اور تیز ہوجاتا جس سے نمرہ کی آہہہہہہہہہہہہہہ اور تیز ہو رہی تھی اور سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا علی نواز بھی نئی پھدی میں لن جاتا دیکھ کر بے چین ہو رہا تھا اور مزید تیزی سے دھکے مار رہا تھا اس کا لن جب گہرائی مٰن جاتا تو لن کی ٹوپی کسی گرم عضو سے ٹکراتی تو اعلی نواز کو اپنے پیروں تلے زمین سرکتی محسوس ہوتی اور وہ مزید تیزی سے پھدی میں دھکے مارتا اور تھپڑ مارنا شروع ہوجاتا اپنی بہن کے چوتر پر علی نواز کو لن ڈالے دس منٹ ہو چکے تھے دس منٹؤں مٰن وہ فارغ ہونے والا تھا ۔ اب کی بار اس نے تیزی سے لن کو چلانا شروع کر دیا ۔ لن تیزی سے چلنے کی وجہ سے نمرہ کی پھدی میں سے پانی نکلنے لگ گیا لگتاتھا وہ فارغ ہونے والی ہے ۔ اس کا بھائی بھی سیکس کے جوش میں اب مزید تیز ہو چکا تھا اور لن کے ساتھ ٹٹے نمرہ کے پچھواڑے سے ٹکرا رہے تھے جس سے چپڑ چپڑ چپڑ کی آواز ا رہی تھی ، لیکن وہ بے پرواہ ہو کے چدائی کا کھیل کھیلتے جا رہے تھے ، علی نواز کو آج اپنی بہن کی پھدی مار کر بہت مزا آرہا تھا اور نمرہ کی حالت بھی ایسی ہی تھی سالون بعد لن اس کی پھدی میں تھا وہ تو خوش بھی تھی اور مزے سے کتیا بنی ہوئی چدوائے جا رہی تھی نمرہ چاہتی تھی کہ یہ کھیل بند نہ ہو ایسے ہی لن اس کی پھدی میں ہتھوڑے کی طرح چلتا رہے ۔ سات انچ کا لن اسے بہت مزا دے رہا تھا اس کا دانہ پھول کر سوج چکا تھا اور پھدی لال ہوتی جا رہی تھی علی نواز دھکے پردھکے مار رہا تھا لگتا تھا آج وہ چھوٹے گا نہیں ۔ اور پھر نمرہ کی تیز بلند چیخ برآمدی ہوئی وہ چھوٹ چکی تھی اس کا بدن کانپ رہا تھا اب کی بار اس کی پھدی میں سے سفید پانی نکل رہا تھا اور علی نواز کا لن بھگ چکا تھا یہ چیخ سن کر علی نواز کومزید جوش آگیا اور وہ مزید تیزی سے بغیر پرواہ کیے چودتا جا رہا تھا نمرہ نیچے تڑپ رہی تھی اسے گدگدی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ وہ اب فارغ ہو چکی تھی لیکن جیسے ہی لن تیز ہوا تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی لن نکال نہ پائی اور بس مزید تڑپنے لگی جسم کانپتا جا رہا تھا لیکن لن نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا اب کی بار علی نواز کانپنے لگا وہ فارغ ہو رہا تھا زلیخا یہ سب دیکھ رہی تھی جب علی نواز عجیب انداز میں ہلنے لگا تھا زلیخا نے جھٹ سے علی نواز کو پھچچھے دھکیلا اور لن نمرہ کی پھدی سے نکال لیا زلیخا کو اندازہ تھا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے اسی لیے اس نے لن کو نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا اور منہ میں ڈال لیا علی نواز فارغ ہو چکا تھا اور اس کے لن سے نکلتی منی زلیخا کے منہ میں جا رہی تھی اور منہ پر منی کو مل رہی تھی اور علی نواز کے لن کو نچوڑ رہی تھی علی نواز کے پورے جسم سے جان نکلی جا رہی تھی اور وہ آہیں بھرتا ہوا کھڑآ تھا جیسے وہ بے بس ہو، اور اس کا لن چوسا جا رہا ہو اس سے پانی نکلا جا رہا تھا ۔ زلیخا نے منی نکال کر منہ میں لے لی اور پھر اس نے نمرہ کو چہرہ اگے کر کے نمرہ کے ہونٹؤں سے ہونٹ لگا کر منی نمرہ کے منہ میں منتقل کر دی ، منی کا نمکین ذائقہ اور سیکس کی لذت نے سب کو بے حال کر دیا تھا لہذا وہ بھی بھابی کو کس کرنے لگی اور منی کو منہ میں لےلیا دونوں عورتیں منی کو ایک دوسرے کے منہ میں متنقل کر رہی تھی اور علی نواز اب فارغ ہو کر کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا لن ہاتھ میں پکڑ کر وہ سہلا رہا تھا ، اخر کار منی دونوں کے منہ سے ختم ہوگئی آدھی نمرہ پی چکی تھی اور آدھی زلیخا ۔اب وہ دونوں مسکرا رہی تھی زلیخا کی گرمی ابھی تک باقی تھی ،،،،،علی نواز کالن مرجھا رہا تھا ۔ لیکن آج کا سیکس اسے بھو لے نہیں پا رہا تھا وہ ایک اک لمحے کو یاد کر رہا تھا ،،، اسی دوران زلیخا بولی ،،،،،،،،،،،
گشتی کے بچے اپنی بہن کو تو چود لیا مجھے کون چودے گا ۔۔۔ اس گشتوڑ نے میرے شوہر کو نچوڑ دیا ۔ رنڈی عورت ،
علی نواز خاموش رہا ۔۔۔ اب کی بار زلیخا کے چدنے کی باری تھی ۔



اگلا حصہ جلد آ رہا ہے ۔۔۔
دوستوں اپنی کہانی سنانے کے لیے رابطہ کریں ۔میں آپ کے لیے لکھوں گا ۔
کوئی گرم عورت اگر چدوانے کی خواہش مند ہے تو رابطہ کر سکتی ہے ۔
ahmad_abid15@yahoo.com
発行者 Ahmad9882
5年前
xHamsterは 成人専用のウェブサイトです!

xHamster で利用できるコンテンツの中には、ポルノ映像が含まれる場合があります。

xHamsterは18歳以上またはお住まいの管轄区域の法定年齢いずれかの年齢が高い方に利用を限定しています。

私たちの中核的目標の1つである、保護者の方が未成年によるxHamsterへのアクセスを制限できるよう、xHamsterはRTA (成人限定)コードに完全に準拠しています。つまり、簡単なペアレンタルコントロールツールで、サイトへのアクセスを防ぐことができるということです。保護者の方が、未成年によるオンライン上の不適切なコンテンツ、特に年齢制限のあるコンテンツへのアクセスを防御することは、必要かつ大事なことです。

未成年がいる家庭や未成年を監督している方は、パソコンのハードウェアとデバイス設定、ソフトウェアダウンロード、またはISPフィルタリングサービスを含む基礎的なペアレンタルコントロールを活用し、未成年が不適切なコンテンツにアクセスするのを防いでください。

운영자와 1:1 채팅